شعر

دو آتشه

پیر محمد کاروان

د غشو په تڼیو د کلمو ترمنځ لاړ شئ. د مانا د پرانیستلو لپاره Enter یا Space ووهئ او د بندولو لپاره Escape ووهئ.

١

حالاتو وژنی

وژنی

راسرہ خپلولۍ وھی

وژنی

ناپوھہ

چالہ زندګی وژنی

وژنی

ترنہ آذادی وژنی

جادوګرې

وژنی

وژنی

تو ہوں کی میں بیدلی سے

ہوں کی میں بے سے

اپنائیگی دعویٰ کرتے ھیں لوگ

کرتے ہیں مجھے دشمنی سے

ناداں جینے کی

ہوتا آپ اپنی زندگی سے

تیری فریب تو اتے نہیں مجھے

رہا ہوں اپنی میں سے

پہلے سے تیرے گیسو ۓ پرخم ہوں

ہورہا ہوں زلف کی آزادگی سے

مُٹھی میں زندگی اک کی

کی مرضی راہ

میٹھا عدو نہیں

کرتی مجھے لگی سے

۲

چمنہ

زاغانو

پرھر پرھر

کمان

نجمومی اوګورہ

راسرہ

لېدلی حالات

وپښتم

ګاڼہ

روحونہ مړېږی اوخوری

راځی راکاږی

مېدان

میں خزاں

رہیں تجھ میں زاغوں کے اشیاں

صد فگار ترا اپنے تیروں سے

بدست رہیگی کماں

نجمومی ہاتھ کی لکیروں

رہیگا ہمراہِ اسماں

جائیں کے کیا

میں پوچھتا ہوں امکاں یہاں

زمینِ لہو پلائیں

میرِ شہر کے ایماں امتحاں

جہاں نگل کے روحوں کی بھوک مٹتی نہیں

رہیں

یہاں اتا کھیلتا کھیل

رہیگا گا مرا کھیل میداں

۳

تېرېدے

تېرېدے ننګہ

رانجا

بدلولے ډنګہ

پتنګہ

جنګہ

صېقل

زنګہ

سرمدی

چنګہ

زندگی کیا کی جب میں ترنگ

بے جیسے بے

میں سے گزر جانا بہت

نہیں سکتا میں

رانجھا ہوں میں پختون ہوں پھر

نہیں سکتا ہوں میں پختون کے ڈھنگ

شعلہِ رخِ

جا تو مانندِ

کرتے ہیں پیار سے

بجز نہیں کوئی حاصلِ

تو اپنے سے

سے

مرا تو پختو دوسرا

اک بادہِ کے ہیں یہی دونوں

سرمدی میں پوشیدہ

محتاجِ

۴

زلفینو

اوګدہ

راځی

اومنم

اوګورئ

اوګرځی

فراخ

اوکړو

ارے خمِ زلفِ لیلیٰ کہاں

شبِ کی صبحِ کہاں

زمانوں سے ہیں زخمِ

بتائے کوئی کہاں

ترے عہد میں تو کیسے

دکھا لبِ خندہ کہاں

بنایا مجھے عادی

جہاں میں ستمگار کہاں

سجدہِ جاناں مجھ

ملائے کشادہ کہاں

خوابوں اتنا

اک خواب سچا نکلتا کہاں

۵